Friday, July 4, 2025

عاشورہ کی تاریخ – 10 محرم الحرام

 عاشورہ کی تاریخ – 10 محرم الحرام

بنی اسرائیل میں اہمیت:

یہ دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے لیے نجات کا دن تھا، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون کے ظلم سے بچایا اور سمندر کو چیر کر راستہ دیا۔
مدینہ کے یہودی اس دن کا روزہ رکھتے تھے، اسی واقعے کی یاد میں۔

عربوں میں قبل از اسلام:

اسلام سے پہلے عرب بھی اس دن کو مقدس دن مانتے تھے، اور قریش مکہ اس دن روزہ رکھتے تھے۔
وجہ مکمل طور پر معلوم نہ تھی، مگر دن کو احترام حاصل تھا۔

نبی کریم ﷺ کے زمانے میں:

جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی 10 محرم کا روزہ رکھتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:

"ہم موسیٰ سے تم سے زیادہ قریب ہیں۔"
(صحیح بخاری)

پھر آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کی ہدایت دی۔
بعد میں فرمایا:

"اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔"
(صحیح مسلم)

اس طرح 9 و 10 محرم یا 10 و 11 محرم کا روزہ رکھنا سنت قرار پایا۔

واقعۂ کربلا – حضرت امام حسینؓ کی شہادت:

ہجری 61 (680 عیسوی) کو اسی دن، یعنی 10 محرم کو

نواسۂ رسول ﷺ، حضرت امام حسین بن علیؓ

کو یزید کی فوج نے کربلا (عراق) میں شہید کیا۔

یہ عظیم قربانی حق، عدل، اور دین کے تحفظ کی خاطر دی گئی۔
اس واقعے نے عاشورہ کو قربانی، ہمت، اور باطل کے خلاف جہاد کا دن بنا دیا۔

#یوم_عاشورہ
#عاشورہ_محرم
#حضرت_موسیٰ_علیہ_السلام
#فرعون_کی_ہلاکت
#محرم_کا_روزہ
#نبی_کریم_ﷺ
#سنت_عاشورہ
#کربلا
#شہادت_حسین
#امام_حسینؓ
#حق_کی_آواز
#باطل_کی_شکست
#کربلا_کا_پیغام
#اسلام_فروخت_کے_لیے_نہیں
#ہم_حسینی_ہیں
#HussainIsAlive
#MessageOfAshura
#AshuraHistory
#KarbalaLives

 

کربلا: غم نہیں، پیغامِ فتح ہے

 کربلا: غم نہیں، پیغامِ فتح ہے

جی ہاں، کربلا کی پیاس، بچوں کی تکلیف، اور امام حسینؓ کی تنہائی کو یاد کر کے دل غمگین ہو جاتا ہے
لیکن یہ صرف ماتم کا دن نہیں، یہ خوشی کا دن بھی ہے۔
آنسوؤں کے پیچھے روشنی ہے،
ایک فتح کا پیغام ہے،
ایک خوشی کی وجہ ہے —
کیونکہ حضرت حسینؓ نے اپنے نانا محمد مصطفیٰ ﷺ کے دین کو بچا لیا، اپنی قربانی سے۔
حضرت حسینؓ کی شہادت اللہ کی تقدیر کا حصہ تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اس عظیم مشن کے لیے چُنا۔
یہ واقعہ نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی بتا دیا تھا، اور یہ اللہ کے حکم کے مطابق ہوا۔
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں شعور نہیں۔"
(سورۃ البقرہ، آیت 154)
حضرت حسینؓ کو کبھی شکست خوردہ نہ سمجھیں،
بلکہ اُنہیں ہمیشہ باطل پر غالب، حق کا فاتح یاد رکھیں۔
لہٰذا ہمیں فخر سے کہنا چاہیے:
الحمدللہ! انہوں نے اپنا مشن مکمل کیا۔
انہوں نے ثابت کیا کہ اسلام فروخت کے لیے نہیں ہے۔
آج وہ جنت میں شہداء کے ساتھ خوشی منا رہے ہیں۔
وہ جیت گئے۔ اسلام جیت گیا۔ حق جیت گیا۔
حضرت سیدنا حسینؓ کی زندگی سے ہمیں یہ عظیم اسباق ملتے ہیں:
1️⃣ حق کے لیے کھڑے ہو جاؤ، چاہے اکیلے ہی کیوں نہ ہو۔
2️⃣ انصاف کے مقصد کے لیے قربانی — کچھ اصول اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ ان کے لیے جان بھی دی جا سکتی ہے۔
3️⃣ عزت، غیرت اور سچائی کے ساتھ زندگی گزاریں۔
4️⃣ قیادت ایک ذمہ داری ہے — اقتدار نہیں، قربانی اور سچ کی رہنمائی کا نام ہے۔
5️⃣ ایمان اور خاندان ساتھ ساتھ — اپنے بچوں کو ایمان، سچائی اور صبر کی تربیت دیں، چاہے حالات سخت ہوں۔
6️⃣ آزمائش میں صبر — دکھ اور مصیبت میں مؤمن اللہ کے فیصلے پر راضی رہتا ہے۔
7️⃣ اُن کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے — حق، عدل، قربانی، اور اصول سب کے لیے ہیں۔
#کربلا
#حضرت_حسینؓ
#شہادت_امام_حسینؓ
#یوم_عاشورہ
#حق_کی_جیت
#باطل_کی_شکست
#پیغام_کربلا
#درس_کربلا
#اسلام_فروخت_کے_لیے_نہیں
#امام_حسین_کا_پیغام
#کربلا_زندہ_ہے
#جیت_حق_کی
#عاشورہ
#حسینؓ_زندہ_ہے
#حسینؓ_کا_راستہ

Wednesday, July 2, 2025

حضرت امام حسینؓ — قربانی، صداقت اور امت کی اصلاح کا استعارہ

حضرت امام حسینؓ — قربانی، صداقت اور امت کی اصلاح کا استعارہ

نور قریشی
حضرت امام حسینؓ، نواسۂ رسول ﷺ، حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے لختِ جگر، تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جن کی قربانی نے دینِ اسلام کو نئی زندگی بخشی۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ عدل، صبر، حق گوئی اور استقامت کا مظہر ہے۔ کربلا میں آپ کی شہادت صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے — جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا، حق پر ڈٹے رہنا، اور اللہ کی رضا کے لیے جان قربان کر دینا ہی حقیقی ایمان ہے۔
حضرت امام حسینؓ کی ولادت 3 شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ نبی کریم ﷺ کو آپ سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرے۔"
(ترمذی)
آپ نے بچپن نبی ﷺ کی گود میں گزارا اور خلفائے راشدین کے ادوار میں علم، تقویٰ، شجاعت، عبادت اور سخاوت کا نمونہ بنے۔
حضرت ابوبکرؓ کے دورِ خلافت (11 تا 13 ہجری) میں آپ کی عمر تقریباً سات سے نو سال تھی۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں (13 تا 23 ہجری) آپ نو سے انیس سال کے درمیان تھے۔ حضرت عثمانؓ کے دور خلافت (23 تا 35 ہجری) میں آپ کی عمر انیس سے اکتیس سال تک رہی۔ حضرت علیؓ کی خلافت (35 تا 40 ہجری) کے وقت آپ کی عمر اکتیس سے چھتیس سال کے درمیان تھی، اور آپ نے میدان جنگ میں بھرپور شرکت کی۔ حضرت حسنؓ نے چھ ماہ خلافت سنبھالی، تب امام حسینؓ چھتیس برس کے تھے۔ حضرت معاویہؓ کے دورِ حکومت (41 تا 60 ہجری) میں آپ کی عمر چھتیس سے پچپن سال کے درمیان رہی۔ جب یزید نے حکومت سنبھالی (60 ہجری)، تو امام حسینؓ کی عمر پچپن سال تھی، اور 61 ہجری، 10 محرم کو آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
آپ کا مقصد خلافت حاصل کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح، حق کا قیام، اور یزید جیسے فاسق حکمران کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ آپ نے فرمایا:
"میں نہ ظلم کے لیے نکلا ہوں، نہ فساد کے لیے، میں نکلا ہوں اپنی نانا ﷺ کی امت کی اصلاح کے لیے۔"
کوفہ روانگی سے قبل آپ نے کئی صحابہ اور اہلِ علم سے مشورہ کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت محمد بن حنفیہؓ، حضرت ام سلمہؓ سمیت کئی بزرگوں نے آپ کو روکنے کی کوشش کی۔ آپ نے ان کی رائے سنی، اور فرمایا:
"ہمارا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہی بہترین کارساز ہے۔"
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے آپ کی رائے کی تائید کی، مگر خود مکہ میں علیحدہ قیام کا فیصلہ کیا۔
امام حسینؓ 28 رمضان 60 ہجری کو مدینہ سے مکہ روانہ ہوئے۔ آپ نے مکہ میں تقریباً چار ماہ قیام فرمایا۔ 8 ذو الحجہ کو، حج سے پہلے، اس خدشے کے پیشِ نظر کہ یزیدی کارندے آپ کو حرم میں شہید نہ کر دیں، آپ نے مکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں کئی افراد نے آپ کو روکا، جن میں عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن ابی موطی بھی شامل تھے، مگر آپ نے فرمایا:
"میں حق کے لیے نکلا ہوں، میں اپنی نیت، دعوت اور مشن کے لیے جانا چاہتا ہوں — چاہے راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔"
وادیِ عقیق میں ‘بشیر بن غالب’ کے ساتھ گفتگو میں فرمایا:
"تمہارے دل ہمارے ساتھ ہیں مگر تلواریں دشمن کی جانب؛ سچائی پر ہو مگر امتحان سخت ہے۔"
طَہْلَبِیہ کے مقام پر مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا:
"جو جانا چاہے، چلا جائے۔"
سفر کے دوران آپ جگہ جگہ کھانا اور پانی بانٹتے رہے، مہمان نوازی اور اخلاق کا مظاہرہ کرتے رہے۔
محرم 61 ہجری کو آپ کربلا پہنچے۔ دشمن نے پانی بند کر دیا، محاصرہ کیا، مگر آپ نے صبر و عزیمت کا مظاہرہ کیا۔ حضرت عباسؓ نے جان پر کھیل کر پانی لانے کی کوشش کی۔ امام حسینؓ نے ہر قدم پر اللہ کی رضا کو ترجیح دی، اور میدانِ کربلا میں اپنے نانا کے دین کو بچانے کی خاطر اپنے عزیز ترین ساتھیوں کی قربانی دی۔
شہدائے کربلا میں شامل تھے
اہلِ بیت (اولادِ حضرت ابوطالبؓ):
حضرت امام حسینؓ، حضرت عباسؓ، حضرت علی اکبرؓ، حضرت علی اصغرؓ، حضرت عبداللہ بن علیؓ، حضرت جعفر بن علیؓ، حضرت عثمان بن علیؓ، حضرت ابوبکر بن علیؓ، حضرت ابوبکر بن حسنؓ، حضرت قاسم بن حسنؓ، حضرت عبداللہ بن حسنؓ، حضرت عون بن عبداللہ جعفرؓ، حضرت محمد بن عبداللہ جعفرؓ، حضرت عبداللہ بن مسلم بن عقیلؓ، حضرت محمد بن مسلمؓ، حضرت محمد بن سعید بن عقیلؓ، حضرت عبدالرحمن بن عقیلؓ، حضرت جعفر بن عقیلؓ۔
قبیلہ بنی اسد:
حضرت انس بن ہرسؓ، حضرت حبیب بن مظاہرؓ، حضرت مسلم بن عوسجہؓ، حضرت قیس بن مشیرؓ، حضرت ابو سماک عمر بن عبداللہؓ، حضرت برویر ہمدانیؓ، حضرت ہنظلہ بن اسدؓ، حضرت ابی س شکریؓ، حضرت عبدالرحمن رحبیؓ، حضرت سیف بن ہرسؓ، حضرت عامر بن عبداللہ ہمدانیؓ۔
قبیلہ جاہبی:
حضرت جنادہ بن ہرسؓ، حضرت مجمع بن عبداللہؓ، حضرت نفی بن ہلالؓ، حضرت حجاج بن مسروق موازنؓ۔
قبیلہ انصاری:
حضرت عمر بن قرتؓ، حضرت عبدالرحمن بن عبدالرّبؓ، حضرت جنادہ بن کعبؓ، حضرت عامر بن جنادہؓ، حضرت نعیم بن اجلانؓ، حضرت سعد بن ہرسؓ۔
قبیلہ بیجلی و خاصعمی:
حضرت زہیر بن قینؓ، حضرت سلمان بن مزاریبؓ، حضرت سعید بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن بشیرؓ۔
قبیلہ کندی و غفّاری:
حضرت یزید بن زید کندیؓ، حضرت حرب بن عمرو القیسؓ، حضرت زہیر بن عامرؓ، حضرت بشیر بن عامرؓ، حضرت عبداللہ ارواح غفّاریؓ، حضرت جون (غلام ابوذرؓ)۔
قبیلہ قلبی:
حضرت عبداللہ بن عامرؓ، حضرت عبدالاعلیٰ بن یزیدؓ، حضرت سلیم بن عامرؓ۔
قبیلہ عظدی:
حضرت قاسم بن حبیبؓ، حضرت زید بن سلیمؓ، حضرت نعمان بن عمرؓ۔
قبیلہ عبیدی:
حضرت یزید بن ثابتؓ، حضرت عامر بن مسلمؓ، حضرت سیف بن مالکؓ۔
قبیلہ تمیمی و طائی:
حضرت جابر بن حجاجیؓ، حضرت مسعود بن حجاجیؓ، حضرت عبدالرحمن بن مسعودؓ، حضرت باقر بن حئیؓ، حضرت عمار بن حسن طائیؓ۔
قبیلہ تغلبی:
حضرت زرغامہ بن مالکؓ، حضرت کنانہ بن عتیقؓ۔
قبیلہ جہانی و تمیمی:
حضرت عقیبہ بن سُلطؓ، حضرت حر بن یزید تمیمیؓ، (دوبارہ) حضرت عقیبہ بن سُلطؓ۔
متفرق شہداء:
حضرت ہبالہ بن علی شیبانیؓ، حضرت قناب بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن یقطرؓ، حضرت غلامِ ترکی (غلامِ امامِ سجادؓ)۔


یہ سب افراد قربانی، وفاداری، حق گوئی اور صداقت کی ایسی مثالیں ہیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔
حضرت حسینؓ کا قافلہ کوئی عام قافلہ نہ تھا، بلکہ ایک نظریہ، ایک پیغام، ایک تحریک تھا۔
یہ پیغام آج بھی امت کو بیدار کرتا ہے:
ظلم کے خلاف کھڑے ہو جاؤ، حق پر قائم رہو، اور اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ قربان کر دو۔
#حضرت_حسین
#شہادت_امام_حسین
#واقعہ_کربلا
#محرم_الحرام
#اصلاح_امت
#نواسہ_رسول
#HazratHussain
#MartyrOfKarbala
#Muharram
#GrandsonOfTheProphet
#Muharram2025
#BattleOfKarbala

Tuesday, July 1, 2025

سیونگ یا دنیا جمع کرنا

 

سیونگ یا دنیا جمع کرنا

نور قریشی

3 طرح کے لوگ

1.وہ لوگ جو ضرورت کے تحت بچت کرتے ہیں. بچوں کی تعلیم، بیماری، یا حج جیسی نیت سے. ایسے لوگ زکٰوۃ بھی دیتے ہیں، صدقہ بھی کرتے ہیں. مال دل میں نہیں رکھتے، ہاتھ میں رکھتے ہیں. یہ درست ہے۔

 

2.وہ لوگ جو صرف مستقبل کے اندیشوں میں جیتے ہیں. شاید کچھ ہو جائے، شاید کمی ہو جائے. پھر دنیا ہی مقصد بن جاتی ہے، اللہ پر توکل کمزور یہ لوگ شک اور کمزوری کے شکار ہوتے ہیں۔

 

3.وہ لوگ جو مال کو محبت، عزت، فخر، اور آسائش کا ذریعہ بناتے ہیں. پلاٹ، کوٹھی، نئی گاڑی، نئی برانڈ، سوشل میڈیا شو اور پھر کہتے ہیں: "ہم نے حلال کما کے جمع کیا ہے. یہی اصل گمراہی ہے۔

 

نبی ﷺ کی حدیث

ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال… حالانکہ تیرا مال تو وہی ہے جو تُو نے کھا لیا، پہن لیا، یا صدقہ کر دیا، باقی تو دوسروں کا ہے.

 

مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف پیسہ جمع کرنا، گاڑی، کوٹھی یا پلاٹ حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ دل اللہ کے ساتھ ہو, زندگی آخرت کی تیاری ہو, مال ذریعہ ہو، مقصد نہ ہو. اگر اللہ دے دے، تو شکر اور خرچ, اگر نہ دے، تو صبر اور امید

 

آج کی سیونگ دراصل "دنیا پرستی" کی عبادت بن چکی ہے۔ لوگ نیت کو اللہ کی رضا سے ہٹا کر "گاڑی، پلاٹ، عیش" کی طرف کر چکے ہیں۔ یہ صرف مالی بیماری نہیں، روحانی زوال ہے۔

علماء، خطباء، اور والدین کو چاہیے کہ نیت کی اصلاح پر زور دیں. توکل، زہد، قناعت اور اخلاص سکھائیں. دنیا کو "مقصد" کے بجائے "ذریعہ" بنانا سکھائیں اور نوجوانوں کو بتائیں کہ تمہاری کامیابی گھر، گاڑی یا بینک بیلنس نہیں — تمہاری نیت، صدقہ، اور آخرت کی فکر ہے۔

اللہ ہمیں دل کا غنی، نیت کا مخلص، اور مال کا امانت دار بندہ بنا دے۔

Monday, June 30, 2025

شہری اور جمہوری اقدار: ایک آئینہ جس سے ہم نظریں چراتے ہیں


شہری اور جمہوری اقدار: ایک آئینہ جس سے ہم نظریں چراتے ہیں

تحریر: نور قریشی

پاکستانی فخر سے خود کو اسلامی اقدار کا پیروکار کہتے ہیں۔ ہم انصاف، دیانتداری، اور عوامی خدمت کی بات کرتے ہیں — جو کہ ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ مگر جب بات ان اقدار کو عملی زندگی، خاص طور پر جمہوریت اور شہری ذمہ داریوں میں اپنانے کی آتی ہے، تو ہمارا طرزِ عمل بالکل مختلف نظر آتا ہے۔

ہم نمائندے انتخاب کرتے ہیں، مگر مقصد کچھ اور ہوتا ہے

جمہوریت ہمیں یہ حق دیتی ہے کہ ہم اپنے نمائندے منتخب کریں — وہ لوگ جو قانون سازی کریں، پالیسی بنائیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائیں۔ مگر حقیقت میں ہم ووٹ دیتے ہیں:

  • شخصیت پرستی کی بنیاد پر، کارکردگی پر نہیں۔
  • برادری، زبان یا علاقے کی بنیاد پر، قابلیت پر نہیں۔
  • ذاتی فائدوں کے وعدوں پر، جیسے "گلی بنوا دوں گا"، نہ کہ وژن یا پالیسی پر۔

ہم اپنے ایم این اے یا ایم پی اے سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہماری گلی بنوائے، ہمارے عزیز کو نوکری دلائے، یا ہمارا بجلی کا بل معاف کروائے۔ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ انہوں نے تعلیم، انصاف یا مقامی اداروں کے لیے کیا کیا ہے۔ ہم اپنا ووٹ مختصر فائدے کے بدلے میں بیچ دیتے ہیں، چاہے اس سے ہمارا علاقہ یا ملک نقصان میں جائے۔

آج کے دور میں

صرف وہی لوگ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں جن کے پاس پیسہ ہو، اثر و رسوخ ہو، یا جھوٹ بولنے کی مہارت ہو۔

ایماندار، تعلیم یافتہ اور اہل لوگ یا تو الیکشن لڑنے سے کتراتے ہیں یا اگر لڑیں بھی، تو عوام انہیں سنجیدہ نہیں لیتے کیونکہ وہ "سیاست کا کھیل" کھیلنا نہیں جانتے۔

ہم سارا الزام نظام کو دیتے ہیں، مگر ہم ہی تو وہ نظام ہیں ہم ہی بار بار ان لوگوں کو منتخب کرتے ہیں، جن کے بارے میں ہم سب کچھ جانتے ہیں۔

ہم سب کچھ چاہتے ہیں، مگر اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھاتے

ہم چاہتے ہیں:

مفت تعلیم، صحت، صاف پانی، تحفظ، سڑکیں، نوکریاں۔

مگر ہم میں سے بہت سے:

ٹیکس نہیں دیتے۔

بجلی چوری کرتے ہیں۔

ٹریفک قوانین توڑتے ہیں۔

زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔

ہم حکومت کو صرف "خدمت گزار" سمجھتے ہیں، شراکت دار نہیں۔ ہم خود قانون توڑتے ہیں مگر حکومت سے چاہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک کرے۔ یہ حب الوطنی نہیں — یہ منافقت ہے۔

ہم اسلام کی بات کرتے ہیں، اسلامی نظام کے نعرے لگاتے ہیں۔ مگرہم اسی شخص کو ووٹ دیتے ہیں جو ہمیں فائدہ پہنچائے، چاہے وہ جھوٹا، کرپٹ یا ظالم ہی کیوں نہ ہو۔

  • ہم سچائی، خدمت، انصاف، اور اجتماعی ذمہ داری جیسی اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔

اسلامی قیادت امانت، عدل، اور خدمت پر مبنی ہوتی ہے — مگر ہم ان اصولوں کو اپنی ذاتی آسانی کے لیے بھول جاتے ہیں۔

ہمیں نمائندوں کے فرائض کا علم ہی نہیں

اکثر ووٹرز کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایم این اے یا ایم پی اے کے اصل فرائض کیا ہوتے ہیں۔ ہم ان سے:

  • نالیاں ٹھیک کرنے،
  • سڑکیں بنانے،
  • پانی کے مسائل حل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

حالانکہ یہ سب کام بلدیاتی حکومتوں کے ہوتے ہیں — جو یا تو غیر فعال ہیں یا سیاسی طور پر غیر مؤثر بنا دی گئی ہیں۔ جب مقامی حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں، تو سیاستدان خدمت گزار بن جاتے ہیں، قانون ساز نہیں اور جمہوریت صرف وعدوں اور سفارشوں کی منڈی بن کر رہ جاتی ہے۔

ہم نے برسوں یہی سیکھا ہے:

  • کہ اقتدار سفارش، تعلقات، اور شارٹ کٹ سے حاصل ہوتا ہے۔
  • کہ اصولوں پر نہیں، فائدے پر زندہ رہا جاتا ہے۔

ہم نے وہی کچھ اپنایا جو ہم نے طاقتوروں سے دیکھا: سفارش، خود غرضی، اور چالاکی۔ اگر ہم اسی راستے پر چلتے رہے، تو نہ کوئی نظام ٹھیک ہوگا، نہ قوم مضبوط بنے گی۔

بہتر لیڈروں کا انتظار مت کریںخود بہتر بنیں۔

  • سچ بولیں،
  • ایمانداری سے ووٹ دیں،
  • قانون کا احترام کریں،
  • بغیر کسی لالچ کے اپنی برادری کی خدمت کریں۔

کیونکہ آخرکار:

ایک ملک اتنا ہی ایماندار، انصاف پسند، اور جمہوری ہوتا ہے، جتنا کہ اُس کے شہری ہوتے ہیں۔

Civic and Democratic Values: The Mirror We Avoid

 

 Civic and Democratic Values: The Mirror We Avoid

By Noor Qureshi

Pakistanis proudly call themselves followers of Islam. We talk about justice, honesty, and public service — values deeply rooted in our religion. But when it comes to practicing those values in public life, particularly in democracy and civic duties, our actions tell a very different story.

Democracy gives us the power to choose our representatives — those who will legislate, create policies, and guide national development. But in reality, we often vote based on:

  • Personality cults, not performance.
  • Biradari (clan) or ethnic ties, not competence.
  • Promises of personal favors, like fixing a street— not vision or policy.

We demand that the MNA or MPA build our street, get our cousin a job, or stop our electricity bill. We do not ask what they have done for education, justice, or local institutions. In short, we trade votes for short-term benefits, even if it harms our community or future generations.

Only those with money, influence, or the ability to lie convincingly are usually able to contest and win elections. Honest, competent, or educated people rarely stand a chance, and if they do, they’re often ignored because they don't play the dirty game of politics. We blame the system, but we are the system — we choose these leaders, again and again, knowing what they are.

We Demand Services, But Avoid Our Responsibilities. We want everything: like Free education, healthcare, clean water, safety, infrastructure, but many of us don’t pay taxes, steal electricity, violate traffic rules, or occupy land illegally. We see the state as a provider — not as a partnership. We expect the government to solve all problems while we break the same laws we want others to follow.

This is not patriotism. This is not faith. This is entitlement and hypocrisy.

We talk about Islamic values, say we want Islamic governance. But in practice,  we elect the person who benefits us, even if he lies, cheats, or is corrupt , we ignore Islamic teachings of truth, service, justice, and collective responsibility. True Islamic leadership is based on Amanah (trust), Adal (justice), and Khidmat (service). But we ignore these principles for personal convenience.

Most voters don’t know the basic responsibilities of an MNA or MPA. We ask them to: Fix sewers, Build roads, Solve water issues. But these are the job of local governments — which are either inactive or politically sidelined. In absence of strong local bodies, politicians become providers instead of lawmakers — and democracy becomes a market of promises, not policies.

People learned to survive by favor, not fairness. So we copied what we saw: shortcuts, sifarish, and self-interest. But if we keep repeating this, we will never build a just or stable nation.

If you are a young Pakistani, don’t wait for better leaders — be one. Start by speaking the truth, Voting responsibly, Respecting the law and Serving your community without reward.

Sunday, June 29, 2025

اہلِ بیت کا مقام، معصومیت کا مفہوم

 اسلامی تاریخ میں اہلِ بیت کا مقام، معصومیت کا مفہوم، اور دینی قیادت کا نظام ایک اہم علمی، اعتقادی، اور تہذیبی موضوع ہے۔ دو بڑے مکتبہ ہائے فکر — اہلِ سنت والجماعت اور شیعہ اثنا عشریہ — ان امور پر مختلف آرا رکھتے ہیں۔ آئیے اس کا ایک جائزہ لیتے ہیں

عقائد کا موازنہ
موضوع: معصوم کون؟
اہلِ سنت: صرف انبیاء
شیعہ: انبیاء + بارہ امام
قرآن و حدیث میں صرف انبیاء کی معصومیت مذکور ہے۔ دوسرے نیک لوگ خطا سے بچ سکتے ہیں، مگر معصوم نہیں کہلاتے۔

موضوع: دین مکمل کب ہوا؟
اہلِ سنت: نبی کریم ﷺ پر
شیعہ: بارہ اماموں کے ذریعے

سورہ مائدہ کی آیت اليوم أكملتُ لكم دينكم دین کے مکمل ہونے کا اعلان ہے۔ بعد میں کسی بھی رہنمائی کو دین کی تکمیل نہیں کہا جا سکتا۔

موضوع: قیادت کا طریقہ
اہلِ سنت: شوریٰ، اجماع امت
شیعہ: امام مقرر من جانب اللہ

قرآن میں وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ کا اصول موجود ہے۔ خلفائے راشدین اسی اصول کے تحت منتخب ہوئے۔

موضوع: اطاعت کس کی؟
اہلِ سنت: اللہ، رسول، اور شریعت کے مطابق حکم
شیعہ: امام کی بات چونکہ معصوم ہے، اس کی اطاعت فرض ہے

اطاعت صرف اس بات کی ہو گی جو قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ اندھی تقلید قابلِ قبول نہیں۔

موضوع: دین کی حفاظت کون کرتا ہے؟
اہلِ سنت: اللہ خود
شیعہ: امام کے ذریعے
سورہ حجر: إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون. دین کی حفاظت اللہ کے ذمہ ہے، کسی انسان پر نہیں۔

موضوع: اہلِ بیت کا مقام
اہلِ سنت: اعلیٰ مقام، محبت واجب
شیعہ: بارہ امام معصوم و رہبر

اہلِ بیت کا احترام فرض ہے۔ معصومیت کی دلیل قرآن و سنت سے نہیں ملتی


اہلِ سنت کے علمائے کرام کی آراء
:
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ: معصوم صرف نبی ہوتا ہے، دیگر نیک لوگ خطا سے محفوظ ہو سکتے ہیں مگر معصوم نہیں۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ : اہل بیت کی فضیلت اپنی جگہ، مگر معصومیت کی دلیل نہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ : سب سے افضل خلیفہ حضرت ابوبکرؓ، پھر عمرؓ، پھر عثمانؓ، پھر علیؓ ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ : اہل بیت کی محبت واجب، مگر دین اتباعِ قرآن و سنت سے قائم ہے۔
قرآن مجید سے رہنمائی

آیت تطہیر (33:33): فضیلت کا بیان ہے، معصومیت کی صراحت نہیں
حدیث غدیر: من کنت مولاه فعلي مولاه — محبت و قربت کی دلیل، سیاسی امامت کی نہیں

اہلِ بیت کے اقوال

حضرت علیؓ: حق کو پہچانو، شخص کو نہیں. ابوبکرؓ اور عمرؓ نبی ﷺ کے بعد بہترین ہیں
حضرت فاطمہؓ: عبادت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے
حضرت حسنؓ: میں نے امت کے اتحاد کے لیے خلافت چھوڑ دی
حضرت حسینؓ: میں امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں، فساد کے لیے نہیں
امام جعفر صادقؒ: اگر میری بات قرآن و سنت کے مطابق ہو تو مانو، ورنہ چھوڑ دو